بظاہر یہ چند الفاظ ہیں، لیکن دفاعی اور سفارتی اعتبار سے ان کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں ۔اس تاریخی مرحلے کو صرف ایک دن کی تقریب سمجھنا درست نہیں۔ اس کے پیچھے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی تعلقات، اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال شامل رہی ہے۔ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب نے Strategic Mutual Defence Agreement پر دستخط کیے تھے، جس نے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو ایک واضح اسٹریٹجک بنیاد فراہم کی۔یہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار بھی اہم نظر آتا ہے۔ وہ صرف پاکستان کے عسکری سربراہ نہیں بلکہ Chief of Defence Forces کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ سعودی قیادت کے ساتھ ان کے مسلسل رابطے اور دفاعی معاملات پر ہونے والی ملاقاتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو محض روایتی فوجی تعاون تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کی طرف بڑھایا۔

مارچ 2026 میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات میں علاقائی سلامتی اور باہمی دفاعی معاہدے کے تحت مشترکہ اقدامات پر بھی گفتگو کی تھی۔لیکن ایک بات سمجھنا ضروری ہے: ایسے بڑے معاہدے کسی ایک شخصیت کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ ریاستی سطح پر سفارت کاری، وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع، مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے اپنے اپنے دائرۂ کار میں کام کرتے ہیں۔پاکستان کی Inter-Services Intelligence (ISI) اور Military Intelligence (MI) بھی قومی سلامتی کے نظام کا حصہ ہیں۔ ان اداروں کا بنیادی کام ایسی معلومات اور تجزیات فراہم کرنا ہے جو ریاستی قیادت کو سلامتی اور اسٹریٹجک فیصلوں میں مدد دے سکیں۔

موجودہ دور میں DG ISI لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک ہیں، جبکہ دستیاب حالیہ معلومات کے مطابق DG Military Intelligence میجر جنرل اظہر وقاص ہیں۔ان اداروں کے بارے میں عام طور پر بہت سی باتیں لکھی اور کہی جاتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انٹیلی جنس کی اصل محنت اکثر خبروں کی سرخی نہیں بنتی۔ ریاستی سلامتی کے معاملات میں رابطہ کاری، خطرات کا اندازہ، معلومات کا تجزیہ اور ممکنہ صورتحال کے بارے میں بروقت آگاہی وہ کام ہیں جو زیادہ تر پردے کے پیچھے ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان اداروں کی کسی مخصوص خفیہ کارروائی یا منصوبہ بندی کے بارے میں بغیر سرکاری ثبوت کے دعویٰ کرنا مناسب نہیں۔البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ صرف عسکری ضرورت نہیں بلکہ اعتماد کی ایک نئی شکل ہے۔

پاکستان کے پاس عسکری تجربہ اور دفاعی صلاحیت ہے، سعودی عرب کے پاس خطے میں سیاسی، معاشی اور جغرافیائی اہمیت ہے جبکہ ترکیہ ایک بڑی علاقائی عسکری قوت اور نیٹو کا رکن ہے۔ ان تینوں کی صلاحیتوں کا باہمی تعاون خطے میں دفاعی توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔اس معاہدے کی سب سے بڑی خوبصورتی شاید یہی ہے کہ اسے کسی ملک کے خلاف جنگی اتحاد کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اسے دفاعی نوعیت کا معاہدہ قرار دیا ہے۔ اس لیے اس کا اصل امتحان کسی دشمن کو دھمکی دینا نہیں بلکہ اپنے ممالک اور خطے کے امن کے لیے ایک مؤثر دفاعی نظام قائم کرنا ہوگا۔ مکہ مکرمہ میں ہونے والے اس معاہدے کو تاریخ صرف دستخطوں کی ایک تصویر کے طور پر نہیں دیکھے گی۔ اس کے پیچھے برسوں سے بنتے ہوئے تعلقات، بدلتی ہوئی علاقائی سیاست اور وہ خاموش ریاستی محنت بھی موجود ہے جس کا بڑا حصہ عوام کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔اور شاید یہی قومی سلامتی کی دنیا کا سب سے بڑا اصول ہے:جو کام سرحدوں اور ریاست کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے، اس کا ہر حصہ خبر نہیں بنتا؛ کچھ محنت تاریخ بننے کے بعد نظر آتی ہے۔مکہ مکرمہ میں ہونے والے اس معاہدے نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو دفاعی تعاون کے ایک نئے فریم ورک میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب اصل کامیابی اس بات میں ہوگی کہ یہ دستخط عملی تعاون، مشترکہ دفاعی صلاحیت اور خطے کے پائیدار امن میں کس حد تک تبدیل ہوتے ہیں۔مکہ سے اٹھنے والا یہ پیغام واضح ہے: دفاع مشترک ہو تو ذمہ داری بھی مشترک ہوتی ہے#